Skip to main content

Urdu Afsana, Burqaa Posh Aur Baba Khajal Saaen, Urdu Best Afsana, Urdu Short Story : Rashid Aslam

برقعہ پوش اور بابا کھجل سائیں


ایک برقعہ پوش خاتون کا معمول بن گیا۔۔۔ جب بھی بابا کھجل سائیں بازار سے گزرتے وہ جُوتا اتار کر ان کی پٹائی شروع کر دیتی ۔۔۔ مجمعہ اکٹھا ہوجاتا جِس میں چار چھ مرید بھی شامل ہوتے۔۔ مگر بازار میں خاتون کے اس روئیے سے سب یہی اخذ کرتے کہ لامحالہ اس بابے نے ہی چھیڑخانی کی ہوگی۔۔اور مرید تو باباجی کی کرتوتوں سے ویسے بھی واقف تھے لہذٰا وہ باباجی کو پِٹتا چھوڑ کر "نِیوی پاکے" نکل جایا کرتے تھے۔۔۔ان چند مریدوں کی بدولت یہ بات پھیلتی پھیلتی آستانے پر آنے والے ہر مرید، مریدنی تک پہنچ گئی۔۔۔ مریدِ خاص نے فِکر مند ہوکر باباجی کو اس 

کا کوئی مناسب حل نکالنے کو کہا۔۔۔۔

لہذٰا اگلے دن باباسائیں پلان کے مطابق بازار نکلے۔۔۔ حسبِ معمول برقعہ پوش خاتون نے ان کی چھترول شروع کردی اس سے پہلے کہ زیادہ مجمعہ اکٹھا ہوتا وہ خاتون کا جوتا چھین کر فرار ہوگئے۔۔۔ اور اِرد گرد کہیں چھُپا ہوا مریدِ خاص پلان کے مطابق اس خاتون کے تعاقب میں ہولیا۔۔۔
عصر کے بعد آستانے پر جیسے ہی مرید اکٹھے ہوئے مریدِ خاص نے بلند آواز میں باباجی کو جوتے پڑنے والا معاملہ دہرایا اور اس کی وجہ پوچھی۔۔۔ باباجی نے تحمل سے سُنا اور داڑھی کھجاتے ہوئے مخاطب ہوئے۔۔
"دراصل مریدنی پر کسی بھوت کا سایہ ہے۔۔۔ میں نے پہلے دن ہی اس کے سر پر جمجمجمالی جِن کا سایہ منڈلاتا ہوا دیکھ لیا تھا" معمول کے مطابق یہ واقعہ ہونے لگا اور میں اس جن کی طاقت کا جائزہ لینے کی غرض سے بار بار بازار کے چکر لگاتا رہا۔۔۔ آج میں اس کا پورا بھید پاچکا ہوں اور اپنے مؤکلات اس پر چھوڑ رہا ہوں۔۔ اس کے لیے آج رات ایک خصوصی چِلّہ کاٹوں گا۔۔"
کھجل سائیں مسند سے نیچے اتر کر اپنی جھگی میں بند ہوگئے۔۔۔ اندر آتے ہی انہوں نے مریدنی کا جوتا نکالا۔۔۔ اور تھیلے میں سے ایک جیومیٹری باکس نکال کر اس کی پیمائشیں کرنے لگے۔۔۔ جوتے کی لمبائی چوڑائی اونچائی الغرض مکمل بناوٹ کا جائزہ لینے کے بعد ان کے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ نمودار ہوگئی۔۔۔
٭٭٭٭

اگلی صبح برقعہ پوش خاتون کوباباجی کی طرف سے ایک پارسل موصول ہوا۔۔۔ جِس میں سے ایک خوبصورت "سُوٹ" برآمد ہوا۔۔ جسے پہن کر وہ حیران رہ گئی۔۔ سُوٹ ہر لحاظ سے اسے فِٹ آرہا تھا۔۔۔۔ بے اختیار اسے گمشدہ جوتے کا خیال آیا۔۔۔۔ محض جوتے کی بناوٹ دیکھ کر اِس قدر فِٹ سوٹ سلائی کروا کے بھیجنے پر مارے حیرت کے غش کھا کر گِر پڑی۔۔۔
٭٭٭٭
آستانے پر معمول سے زیادہ رش تھا۔۔۔ اچانک وہی برقعہ پوش خاتون مجمعہ چیرتی ہوئی مسند کے قریب آئی۔۔۔ اور کھجل سائیں کی مریدی اختیار کرکے جئے ہو کے نعرے لگاتے ہوئے واپس چلی گئی۔۔۔۔ 
مرید ایسی کایا پلٹ دیکھ کر ششدر رہ گئے۔۔۔ اور آستانہ کھجل سائیں کی جئے ہو کے فلک شغاف نعروں سے گونج اٹھا۔۔
پی ایس: ماہر کھوجی محض پاؤں کے نشان یا جوتے کی بناوٹ دیکھ کر انسان کے 
مکمل قدوقامت کا بالکل درست اندازہ لگا لیتے ہیں



For More Interesting Poetry & WhatsApp Status
Follow Me : Zindagi Na Samjh

Comments

Popular posts from this blog

Mehfil Thi Kuch Apnon Ki, BY Rashid Aslam, Zindagi Na Samjh

  Mehfil Mehfil Thi Kuch Apnon Ki Hum Un Me Begane Se Lagne Lage For More Interesting Poetry & WhatsApp Status Follow Me  :  Zindagi Na Samjh

Hasrat E Deedar Poetry, Deedar Yaar Poetry, Urdu Sad Poetry: Written By Rashid Aslam

Hasrat E Deedar Hamari Hasraton Ka Paimana tou dekho Behak se gaye hain tere deedar k liye Ik tera deedar chahte hain Faqat apni Zindagi ke ikhtatam k liye Written By : Rashid Aslam For More WhatsApp Status Best Poetry Follow Me : Zindagi Na Samjh

MUREED E ISHQ Poetry, Urdu Poetry, Rashid Aslam: Zindagi Na Samjh

مُریدِ عشق MUREED E ISHQ https://zindaginasamjh.blogspot.com/ ہاتھ چوم کے اُس سے پوچھا  کوئی اتنا پیارکرتا ہے تُم سے Hath Choom Ke Us se Pocha Koi Itna Piyar Karta hai Tum Se وہ مُسکرا کر بولے مُرشد کا کوئی ایک مُرید نہیں  ہوتا Woh Muskara Kar Bolay MURSHID Ka Koi Ek Mureed Nai Hota  For More Interesting Poetry & WhatsApp Status Follow Me  : Zindagi Na Samjh